Abrar-ul-Haq sings Iqbal’s poem. Subtitles in English.


کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں‌میری جبین نیاز میں

طرب آشنائے خروش ہو، تو نوا ہے محرم گوش ہو
وہ سرور کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردہ ساز میں

تو بچا بچا کہ نہ رکھ سے، ترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں


نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

  1. mamavh reblogged this from pakistanpassion and added:
    Such beautiful music.
  2. pakistanpassion posted this